نئی دہلی ، 24؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی)دہلی کی ایک عدالت نے گزشہ سال سدرشن چینل کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے کے خلاف ہندو یوا واہنی کے ذریعہ منعقدہ پروگرام میں مبینہ طور پر غیر مہذب زبان اور مذہب کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کے فروغ کیلئے دائر عرضی پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، عدالت نے سماعت کی تاریخ27جنوری مقرر کی ہے-
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر سید قاسم رسول الیاس کے ذریعہ سی آر پی سی کی156(3)کے تحت دائر عرضی میں چوہانکے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے- ساکیت کورٹ میں دائر عرضی میں کہاگیا ہے کہ19دسمبر 2021کو ہندو یوا واہنی کے زیراہتمام ایک پروگرام منعقد کیاگیا -عرضی میں الزام لگایا ہے کہ چوہانکے کو لوگوں کے ایک گروہ کو ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر بنانے کیلئے مرنے او رمارنے کا حلف دلاتے ہوئے دکھایاگیا ہے- عرضی گزار کے مطابق یہ واحد واقعہ نہیں ہے جہاں ملزم نے اشتعال انگیزی کی اور اپنے حامیوں کو ہندو راشٹر کے خواب کیلئے لڑنے اور مذہب کی بنیاد پر جنون پھیلانے کیلئے اکسایاگیا بلکہ میڈیا ہینڈل بنداس بول نام کے اپنے شو کے ذریعہ سے بھی ایسا کیاگیا ہے-
عرضی میں کہاگیا ہے کہ اس نے پولیس اور دیگر کو چوہانکے کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے شکایت دی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی، ایسے میں پولیس کو معاملے میں مقدمہ درج کرکے سریش چوہانکے کے خلاف ان کے اشتعال انگیزبیان پر کارروائی کرنے کا حکم دیاجائے-